زہے قسمت مدینے جا رہا ہوں, zahe qismat madine ja rha hu

 زہے قسمت مدینے جا رہا ہوں

سعادت کیسی اعلیٰ پا رہا ہوں


میرے یارو ذرا مجھ کو سنبھالو

خوشی میں میں تو اُڑتا جا رہا ہوں


بلاوا آ گیا طیبہ نگر سےمیرا

جھکاےٴ سر میں بڑھتا جارہا ہوں


پلانا شربت دیدار ساقی

فقط یہ عرض لے کر آرہا ہوں


زمانہ کھا رہا ہے جن کا صدقہ

انہی کے گیت میں تو گارہا ہوں


لئے ہیں گنبدِ خضرا کے بوسے

تصور میں مزے یہ پا رہا ہوں


وہ دن عرفات کا راتیں منیٰ کی

وہ لمحاتِ مسرت پا رہا ہوں


عبید ان کی وِلا میں پڑھ کے نعتیں

نہ جانے کتنے دل تڑپا رہا ہوں

Post a Comment

Previous Post Next Post