دھوم ہے گھر گھر تمھاری سبزواری سبزواری
ہر زَباں پر ہے یہ جاری سبزواری سبزواری
جھولیاں بھر دو ہماری سبزواری سبزواری
ہے گدا دنیا تمھاری سبزواری سبزواری
ہے تیرا منبر بھی نوری اور ہر مینار نوری
خوب ہے تربت تمھاری سبزواری سبزواری
ہے یہ ارمان دل کا ایک دن آ جائے ایسا
دیکھ لو صورت تمھاری سبزواری سبزواری
رنج و غم ہوں دور سارے کام بن جائیں ہمارے
عرض ہے تجھ سے ہماری سبزواری سبزواری
سر پے جو منڈلا رہی ہیں مجھ کو جو تڑپا رہی ہیں
ہوں بلائیں دور ساری سبزواری سبزواری
غوث کا صدقہ عطا ہو جھولیاں منگتوں کی بھر دو
حاجتیں پوری ہماری سبزواری سبزواری
جھولیاں منگتوں کی بھر دو غوث کا صدقہ عطا ہو
حاجتیں پوری ہماری سبزواری سبزواری
جگما میرا مقدر تونے تو اے میر ے دلبر
قسمتیں لاکھوں سنواری سبزواری سبزواری
جو بھی آیا تیرے در پر وہ گیا دامن کو بھر کر
ہے تمھارا فیض جاری سبزواری سبزواری
ارے میں بھی ہوں سگ تیرے در کا اے سخی دے ڈال ٹکڑا
میں نے بھی جھولی پساری سبزواری سبزواری
ہے عقیدہ یہ ہمارا جو بھی ہے منگتا تمھارا
ہے نظر سب پر تمھاری سبزواری سبزواری
اب کبھی کھائے نہ ٹھوکر ہو عبیدِ قادری پر
وہ نظر دولہا تمھاری سبزواری سبزواری