کیوں کر نہ میرے دل میں ہو اُلفت رسول کی , Kyu Kar Na Ho Mere Dil Mai Ulfat Rasool Ki

کیوں کر نہ میرے دل میں ہو اُلفت رسول کی

جنت میں لے کے جائے گی چاہت رسول کی


چلتا ہوں میں بھی قافلے والو! رُکو ذر ا

ملنے دو بس مجھے بھی اجازت رسول کی


سر کار نے بلا کے مدینہ دکھا دیا

ہو گی مجھے نصیب شفاعت رسول کی


یا ر ب ! دکھا دے آج کی شب جلوۂ حبیب

اِک بار تو عطا ہو زیارت رسول کی


تڑپا کے ان کے قدموں میں مجھ کو گرا دے شوق

جس وقت ہو لحد میں زیارت رسول کی


دامن میں ان کے لے لو پناہ آج منکرو!

مہنگی پڑے گی ورنہ عداوت رسول کی


پوچھیں گے جو دینِ ایماں نکیرین قبر میں

اُس وقت میرے لب پہ ہو مدحت رسول کی


تو ہے غلام ان کا عبیؔد رضا تیرے

محشر میں ہو گی ساتھ حمایت رسول کی 

Post a Comment

Previous Post Next Post