نصیب پر ہیں وہ آج نازاں جنہیں شرف حج کا مل رہا ہے
منیٰ کی جانب رواں دواں ہیں لبوں پہ لبیک کی صدا ہے
لَبَّيْكَ اللَّـهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَك
بچشم نم گم کوئی دعا میں تو کوئی مصروف ہیں ثناء میں
خدا کے مہمان ہیں منیٰ میں عجیب کیف و سرور سا ہے\
قبول کیوں نہ ہو آب دعائیں ملی مقدر سے یہ فضائیں
معاف اُس کی ہیں سب خطائیں جو اج عرفات میں کھڑا ہے
وقوف عرفہ سے بن کے کندن چلے ہیں مزدلفہ حاجی حجّن
مہک رہا ہے دلوں کا گلشن خوشی سے چہرہ دمک رہا ہے
انوکھی بستی عجیب زمیں ہیں کہ سوز ایسا کہیں نہیں ہے
یہ کس قدر آج شب حسیں ہیں کرم خدا کا یہاں بڑا ہے
مگن کوئی ڈھونڈنے میں سنگ ہے رمی کی دل میں بڑی اُمنگ ہے
تھکن سے چور آج انگ انگ ہے مگر تھکن میں بھی ایک مزہ ہیں
عبید اپنی کہاں یہ اوقات کے لے کے جاتے یہاں کی برکات
نبیﷺ کے صدقے دعا کا دامن سبھی مُرادو سے بھر گیا ہے