خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
چھیڑااِنج چھڑیندا یار
اللہ ہ ہ اللہ ہ ہ ھو اللہ ہ ہ ھو اللہ ہ ہ ھو
وجے اللہ والی تال , سوھنے سائیاں والی تال
میرے مرشد والی تال , چیناں اِنج چھڑیندا یار
اللہ ہ ہ ھو اللہ ہ ہ ھو اللہ ہ ہ ھو
اپنی لگن لگادے ، اپنی لگن لگادے
میری خودی مٹادے ، اپنی لگن لگادے
ایسا گموں میں خود سے ، خود کو نا ڈھونڈ پاؤں
ایسی فنا بقادے ، اپنی لگن لگادے
دریائے معرفت میں ڈوبا رہوں میں ہر دم
عارف مجھے بنادے ، اپنی لگن لگادے
میرے نفس نفس میں ھو ھو کی ہوں صدائیں
دل آئینہ بنادے ، اپنی لگن لگادے
مصروفیت ہو کوئی تیرا نہ ذکر چھوٹے
اپنا تو حق سکھادے ، اپنی لگن لگادے
قلبی و روحی سری، اخفیٰ خفی و سوئی
مولا انھیں جگادے ، اپنی لگن لگادے
دے ذکر کی حلاوت , دے روح میں لطافت
پرواز بھی سکھا دے ، اپنی لگن لگادے
اے مہر باں کرم کر , کھل جائیں دل کی آنکھیں
پردے میرے ہٹادے ، اپنی لگن لگادے
مولا عبید کو بھی قلب سلیم دے کر
حق آشنا بنادے ، اپنی لگن لگادے