شیئًا للّٰه یا عبدالقادر
ساکن البغداد یا شیخ الجیلانی
اِدھر بھی نگاہ کرم غوثِ اعظم
کرو دور رنج و الم غوثِ اعظم
کھِلاتا پِلاتا ہے ربِّ دو عالم
تجھے دے کر اپنی قسم غوثِ اعظم
مجھے خواب میں آکے جلوہ دِکھا دو
کرو آج کی شب کرم غوثِ اعظم
تیرا ہوں میں تیرا میرے اس کہے کا
سرِ حشر رکھنا بھرم غوثِ اعظم
کہیں گر نہ جاؤں خدارا سنبھالو
میرے ڈگمگائے قدم غوثِ اعظم
بہت چّبھ رہا ہے خدارا نکالو
میرے دل سے تیر الم غوثِ اعظم
جِلا پائے گا دل عبیدِ رضا کا
ذرا رکھ دو اپنا قدم غوثِ اعظم