سبزواری تمھارے در پر آ گیا ہوں میں بھکاری بن کر
تیر ے در کا ہوںمیں گدا میرے دولہا
بھرو آج دامن میرا میرے دولہا
یہی ہے میری التجا میرے دولہا
مجھے اپنا جلوہ دیکھا میرے دولہا
کرم سے ترے ہوں کھڑا میرے دولہا
تو ہی ہے میرا آسرا میرے دولہا
بر آئے میرا مدعا میرے دولہا
ہو اذنِ مدینہ عطا میرے دولہا
نبی کے نواسوں کا صدقہ عطا ہو
ہوں پھیلائے دامن کھڑا میرے دولہا
تیرے عرس میں آئے جتنے بھکاری
سبھی کو مدینہ دیکھا میرے دولہا
تیرے نور برساتے روضے کا صدقہ
میری گور کی راہ جگمگا میرے دولہا
بسِ مرگ بھی جس کا ہو کیف باقی
محبت کی وہ مئے پلا میرے دولہا
رہوں ساتھ جنت میں اگر تیرے آقا
یہ احسان ہو گا بڑا میرے دولہا
مجھے اس جہان اور اگلے جہان کی
سبھی آفتوں سے بچا میرے دولہا
مجھے اپنے دامن میں اے سبزواری
سر حشر لینا چھپا میرے دولہا
مجھے کیا عطا ہو گیا تیرے در سے
بتاؤں میں ان سب کو کیا میرے دولہا
بھلا ہو کمی اب کسی چیز کی کیا
جو دامن تیرا مل گیا میرے دولہا
نہ مایوس ہو اور گدا بن کے آ جا
کہ بھر دیں گے دامن تمھارا تیرا
تجھے واسطہ غوث و خواجہ کا اب تو
ذرا رخ سے پردہ اٹھا میرے دولہا
نگاہیں کرم کہ عبیدِ رضا ہے
تیرے در کا ادنی گدا میرے دولہا
اٹھا کر نقاب اپنا جلوۂ نوری
عبید ِ رضا کو دیکھا میرے دولہا