سرکار کے در پر جاؤں وہ وقت مبارک آئے
تقدیر اپنی چمکاؤں وہ وقت مبارک آئے
جب پیش نظر ہوں میرے مینار و گنبد تیرے
میں غش کھا کر گر جاؤں وہ وقت مبارک آئے
پھر زیر گنبد خضراء رو رو کر دست بستہ
سب حال میں تجھ کو سناؤں وہ وقت مبارک آئے
دل کو اپنے سمجھا کردیدار کی آس دلا کر
رو رو کر میں سو جاؤ ں وہ وقت مبارک آئے
وہ خواب میں جلوہ دکھائیں اے کاش کرم فرمائیں
میں قدموں میں گر جاؤ ں وہ وقت مبارک آئے
ہے دِل کا عبید یہ ارماں پھر بن کے انکا مہماں
دربار میں نعت سناؤ ںوہ وقت مبارک آئے