فراق مدینہ میں دِل غمزدہ ہے , faraq e madina main dil ghumzada hai

فراق مدینہ میں دِل غمزدہ ہے 

جگر ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا ہے 


چرا کر مدینہ میرا چین چھینا 

بتا نفسِ ظالم تجھے کیا ملا ہے 


میری آنکھ سے چھینا طیبہ کا منظر 

یہ کس بات کا تو نے بدلہ لیا ہے 


سکھایا ہے پِھر یہ مقدر نے مجھ کو 

نا شکوہ کسی سے نا کوئی گلہ ہے 


رہوں بس اسی غم میں بے چین سرور 

مقدر نے جو داغ فرقت دیا ہے 


مقدر سے جس جا رہوں پر شہہ ہو 

نظر میں مدینہ میری التجا ہے 


میرے دِل کے ارمان رہے دِل ہی دِل میں 

یہی غم میرے دِل کو تڑپا رہا ہے 


سکون تھا مجھے کوچۂ مصطفی میں 

وطن میں میرا سب سکون لٹ گیا ہے 


نا دنیا کی فکریں نا غم تھا وہاں پر 

یہاں آ کر دِل آفتوں میں پھنسا ہے 


نہ چھوٹے میرے ہاتھ سے ان کا دامن 

جیوں جب تلک یا خدا یہ دعا ہے 


میں لفظوں میں کیسے بتا دوں کسی کو 

کہ کیا کیا مجھے آج یاد آ رہا ہے 


پہاڑوں کے دلکش ستاروں کے جلوے 

وہ منظر مجھے آج یاد آ رہا ہے 


انہیں چومنا ہاتھ لہرا کے پَیہَم 

وہ لمحہ مجھے آج یاد آ رہا ہے 


عقیدت سے خاک مدینہ اٹھا کر 

اسے چومنا آج یاد آ رہا ہے 


کبھی دید سرور کی حسرت میں منبر 

کو تکنا وہ چُپ چُپ کے یاد آ رہا ہے 


حسین و جمیل پیاری وہ جنت کی کیاری 

وہاں بیٹھنا آج یاد آ رہا ہے 


کبھی دیکھ کر سبز گنبد کا منظر 

جھکانا نظر آج یاد آ رہا ہے

Post a Comment

Previous Post Next Post