مانگنے کا مزہ ہے دَر ِیار پر
ہر طلب پر عطا ہے دَرِ یار پر
کون لب کھولتا ہے دَر یار پر
بے طلب مل رہا ہے دَر یار پر
مانگ ان سے نہیں ، جن کے لب پر نہیں
جو بھی مانگا ملا ہے دَر یار پر
بخش دے یا خدا ، سن کے فرمان تیرا
آج حاضر گدا ہے دَر یار پر
کیوں نا مانگے ، عبید ان کے دَر پر قضا
جی گیا جو مرا ہے دَر یار پر