یاد میں تیری خبر اپنی نہ کچھ سرکار ہو
درد ِ الفت سے میرا دل اس قدر سرشار ہو
تو ہے میرا حامی و یاور مجھے کچھ غم نہیں
کس طرح رسوا تیرا بندہ سر ِبازار ہو
کوششیں تو کی بہت لیکن رہے ناکام ہم
آپ اگر چاہیں ابھی بیڑا ہمارا پار ہو
سبز گنبد دیکھ کر ٹھنڈی نگاہیں پھر کروں
اے قرارِ جان و دل اب پھر کرم اک بار ہو
پھرکرم اک بار ہو کیا کہہ دیا میں نے شہہ
بار بار آؤں کرم ایسا میری سرکار ہو
ہو درودِ پاک ہی وردِ زباں صبح و شام
گفتگو جاری نہ لب کوئی بھی بیکار ہو
تشنگی بڑھتی چلی جاتی ہے کم ہوتی نہیں
کر لیا سو بار بھی جس نے تیرا دیدار ہو
آہ کب ارمان نکلے گا تمھاری دید کا
طالبِ دیدار پر اب تو کرم سرکار ہو
اپنے کتوں میں کیاشامل تجھے ہم نے عبید
کاش اعلانِ سگانِ کوچۂ دلدار ہو