ہوں میں نادم گناہوں پر یا رب
مجھ پہ رحمت کی ہونظر یا رب
جتنی گھڑیاں ہوں عمر کی باقی
عافیت سے وہ ہوں بسر یا رب
خوف آتا ہے کانپ اٹھتا ہوں
یا د آتا ہے جب سفر یا رب
آہ بدکاریاں بڑھیں حد سے
بن چکا قلب بھی ہجر یا رب
تو گنہگار پر رحم فرما
بہر صدیق اور عمر یا رب
بخش ڈے مجھ کو بے سبب مولا
اور جنت میں دیں دے گھر یا رب
خاتِمَہ مصطفی کے قدموں پر
میرا ایمان پر تو کر یا رب
روح نکلے گی جھوم کر میری
ہوگی دید حضور گر یا رب
دے جوار نبی میں جا مجھ کو
نا پھرا مجھ کو دَر بدر یا رب
حج کا ہر سال دے شرف مولا
ساتھ مرشد کے ہو سفر یا رب
مرشدی ساتھ لے چلیں طیبہ
آرزو آئے میری بر یا رب
سامنے سبز سبز گنبد ہو
جب اٹھاؤں جدھر نظر یا رب
عشق سرکار سے ہو دِل روشن
نا ملے مجھ کو مال و زَر یا رب
عشق میٹھے مدینے کا مولا
مجھے حاصل اِس قدر ہو یا رب
کہ جب کہیں بھی ہو ذکر طیبہ کا
آنکھ ہو جائے میری تر یا رب
ہو کے راضی عبید سے مالک
ہر خطا کر تو دَر گزر یا رب
دے بقیع میں عبید کو مدفن
موت طیبہ میں بخش کر یا رب