تم غوث کے دُلارے دولہا شاہ سبزواری
سرکا ر کی غلامی، دعوت اسلامی
اور اس کے ہیں سہارے دولہا شاہ سبزواری
رنج و الم میں گر کر منگتوں نے جو تڑپ کر
جب بھی پکارا آئے دولہا شاہ سبزواری
آؤ گداؤ آؤ منہ مانگی آس پاؤ
کھلاباب کرم برائے دولہا شاہ سبزواری
مانگو فقیروں مانگو جو مانگنا ہے مانگو
دینے پہ آج آئے دولہا شاہ سبزواری
بدکار کو نبھاؤ اور رب سے بخشواؤ
جرم و قصور ہمارے دولہا شاہ سبزواری
بیشک ہیں ہم نکمے مانا کہ ہیں کمینے
آخر تو ہیں تمھارے دولہا شاہ سبزواری
بے بس کے بس تمہی ہو بے کس کے کس تمہی ہو
سب کچھ ہو تم ہمارے دولہا شاہ سبزواری
ہے نظر تمھاری ہم پر کیوں جائیں ہم کہیں پر
ٹکڑوں پہ ہیں تمھارے دولہا شاہ سبزواری
طیبہ کی حاضری ہو دولہا ہمیں ٹکٹ دو
بڑی آس لے کر آئے دولہا شاہ سبزواری
ہوکرم عبید پر بھی ہے غلام تیر ا یہ بھی
تجھ سے یہ تجھ کو چاہے دولہا شاہ سبزواری