تیری چوکھٹ پہ منگتا تیرا آگیا, Teri Chokhat Per Mangta Tera Agya

 تیری چوکھٹ پہ منگتا تیرا آگیا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا

میں سراپا خطا تو سراپا عطا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


مجھ کمینے پہ تونے یہ احساں کیا

ماہ رمضاں میں اپنا مہماں کیا

یہ تیرا ہی کرم ہے تیری ہی عطا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


میں تو قابل نہ تھا اے شاہِ دو جہاں

مجھ سا پاپی کہاں اور تیرا در کہاں

یہ تیرا ہی کرم ہے تیری ہی عطا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


تیرے روضے کا دیدار جس نے کیا

تجھ سے مژدہ شفاعت کا اُس نے لیا

میں بھی تو ہو گیا آج حاضر شہا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


دور رنج و الم سارے کر دے شہا

میرے دامن کو بھی آج بھر دے شہا

در پہ آیا تیرے بھیک لینے گدا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


کب پیئوں گا میں شربت تیری دید کا

اب تو رکھ لے بھرم میری اُمید کا

اک جھلک ہی خدارا دِکھا دے شہا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


بے سہارا ہوں میں غم کا مارا ہوں میں

لاکھ پاپی سہی پر تمھارا ہوں میں

بہرِ غوث الوریٰ اپنے سینے لگا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


جان دنیا کے غم میں سلگتی رہی

آنکھ میری اسی غم میں بہتی رہی

اس کو بہرِ رضا اپنے غم میں رُلا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


جب مدینے سے رُخصت میں ہونے لگوں

ہچکیاں باندھ کر کاش رونے لگوں

مجھ کو سوزِ جگر کردے ایسا عطا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا


ہے مقدر میں گر لوٹنا اپنے گھر

کاش ہو جائے ایسا کہ قلب و جگر

چھوڑ جائے ادھر یہ عبیدِ رضا

میری بگڑی بنا دے شہِ دو سرا

Post a Comment

Previous Post Next Post