بات جو کیجئے اور جب کیجئے
ساتھ میں ذکرمحبوب رب کیجئے
چاہتے ہو ملے ذوق آنسو بہیں
لغو باتوں سے بند اپنے لب کیجئے
لو وہ مینار گنمبد نظر آ گئے
اب سلام عرض سب باآدب کیجئے
سبز گنبد کے سایے تلے ہیں کھڑے
خوب تقدیر پر رشک اب کیجئے
وہ نوازیں گے خالی نہ لوٹائیں گے
ان سے حاجات عرض اپنی سب کیجئے
در پے آکر بھکاری پھریں نامراد
یہ گوارہ بھلا آپ کب کیجئے
رو برو جالیوں کے کھڑے ہیں حضور
اب عطا بھیک شاہ عرب کیجئے
آپ کے در کے ہوتے کدھر جائیں ہم
اب عطا بھیک شاہ عرب کیجئے
دیجئیے ہم کو خیرات دیدار کی
اب کرم یا نبی بہر رب کیجئے
مر رہا ہوں گناہوں کے امراض سے
ایک نظر جانب جاں بلب کیجئے
قلب تاریک پر رکھ کے اپنا قدم
چاندنا میرے ماہ عرب کیجئے
سن کے فریاد امداد کو آ گئے
یاد عبید رضا انکو جب کیجئے