تم نے شاہ جیلاں مجھے بغداد بلایا , Tum Ne Shah e Jilan Mujh Ko Baghdad Bulaya

 تم نے شاہ جیلاں مجھے بغداد بلایا

یوں میرے مقدر کو شہہ تم نے جگایا 


دیکھوں تیرا دربار میری تھی یہ تمنّا 

مدت کا میرے دِل کا یہ اَرْمان بَرآیا 


ہو شکر ادا کیسے تمہارا شاہِ جیلاں

مجھ پاپی کو دربار کا دیدار کرایا 


ہاں ہاں تمہیں معلوم ہے کیا چاہیے مجھ کو 

یا غوث کرم کر میں بَڑی دور سے آیا 


ہر آرزو بر آئےعبیدِ رضوی کی 

یہ عرض لیے آقا کراچی سے میں آیا

Post a Comment

Previous Post Next Post