پِھر مدینے کا مجھ کو بلوا ملا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
سایہ افغن ہوئی رحمت مصطفی
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
پِھر مدینے کا مجھ کو بلوا ملا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
کیف سا چھاجایا میں مدینے چلا
جھومتا جھومتا میں مدینے چلا
پِھر مدینے کا مجھ کو بلوا ملا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
میرے آقا کا دَر ھوگا پیش ِنظر
چاہئے اور کیا میں مدینے چلا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
پِھر مدینے کا مجھکو بلوا ملا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
گنبدِ سبز پر جب پڑےگی نظر
کیا سرور آئیگا میں مدینے چلا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
پِھر مدینے کا مجھ کو بلوا ملا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
سبز گنبد کا نور زنگ کر دیگا دور
پائیگا دِل جلا میں مدینے چلا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
پِھر مدینے کا مجھکو بلوا ملا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
کیا کرے گا ادھر باندھ رخت سفر
چل عبید رضا میں مدینے چلا
لطف تو جب ملے مجھ سے مرشد کہے
چل عبید رضا میں مدینے چلا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا
پِھر مدینے کا مجھ کو بلوا ملا
تم چلو نا چلو میں چلا میں چلا