بھیک عطا اے نبی محتشم ہو
میرے آقا نگاهِ ۔ کرم ہو
دید کا ہوں طلب گار آقا
ہوں اگرچہ گنہ گار آقا
اک جھلک اپنی سرکار آقا
اب دکھا دو نا ایک بار آقا
اس گنہ گار پر بھی کرم ہو
میرے آقا نگاہ کرم ہو
رب نے سب کچھ تمھیں دے دیا ہے
سب خزانوں کا مالک کیا ہے
جس کسی کو ملا جو ملا ہے
میر ے داتا تیری ہی عطا ہے
سب بھکاری فقط داتا تم ہو
میرے آقا نگاہ کرم ہو
چھوٹ جائےگناہوں کی عادت
رب کی دل سےکروں میں عبادت
ایسی کر دے تو نظرے عنایت
بس تیرے غم میں ماهِ رسالت
دل تڑپتا رہے آنکھ نم ہو
میرے آقا نگاهِ کرم ہو
ہے تمنا میری میرے دلبر
دیکھ لوں کاش ہر سال آکر
تیری مسجد کے محراب و منبر
اور روضہ کا پر کیف منظر
پھر بیاں حال با چشم نم ہو
میرے آقا نگاهِ کرم ہو
یاد آتا ہے مجھ کو وه منظر
جب چلا تھا مدینے سے دلبر
مضطرب قلب تھا آنکھ تھی نم
اس گھڑی عرض یہ تھی زباں پر
بار بار آؤں ایسا کرم ہو
میرے آقا نگاهِ کرم ہو
عرض کرتا عبید رضا ہے
جو تیرے در کا ادنا گدا ہے
مشکلوں میں شها یہ گِھرا ہے
تجھ۔ سے اِمداد یہ چاہتا ہے
دور اِسکا ہر ایک رنج و غم ہو
میرے آقا نگاهِ کرم ہو