حضور مجرم کھڑا ہے دَر پردرود تم پر سلام تم پر , huzoor mujrim khada hai dar per

حضور مجرم کھڑا ہے دَر پردرود تم پر سلام تم پر 

تمہی ہو بے کسوں کے یاور درود تم پر سلام تم پر 


جگایا اک بار پِھر مقدر درود تم پر سلام تم پر 

دکھایا دربار پِھر بلا کر درود تم پر سلام تم پر 


میں روز اُڑ کر مدینے آؤں میں سبز گنبد کی دید پاؤں 

عطا ہوں ایسے شہہ مجھے پر درود تم پر سلام تم پر 


حضور نظر کرم ہو اب تو تجھی سے مانگے عبید تجھ کو 

وه عاسیوں میں ہے سب سے بڑھ کر درود تم پر سلام تم پر 

Post a Comment

Previous Post Next Post