گناہوں کی عادت چھڑا میرے مولا
مجھے نیک انسا ن بنا میرے مولا
جو تجھ کو ، جو تیرے نبی کو پسند ہے
مجھے ایسا بند ہ بنا میرے مولا
تُو قدرت سے اپنی بدل نیکیوں سے
ہر اِک میری لغزش خطا میرے مولا
تو مسجود میرا ، میں ساجد ہوں تیرا
تو مالک میں بندہ تیرا میرے مولا
تُو مطلوب تیرا میں طالب ہوں تیرا
مجھے دے دے اپنی ولا میرے مولا
تو لے گا اگر عدل سے کام اپنے
میں ہوں مستحق نار کا میرے مولا
جو رحمت تیری شامل ِ حال ہو تو ،
ٹھکانہ ہے جنت میرا میرے مولا
تجھے تو خبر ہے میں کتنا برا ہوں
تو عیبوں کو میرے چھپا میرے مولا
میری تاقیامت جو نسلیں ہوں یارب
ہوں سب عاشقِ مصطفیٰ میرے مولا
رُلا تُو مجھے بس غم مصطفی میں
نہ دنیا کے غم میں رُلا میرے مولا
ہے اُدعُونی فرمان قرآں میں تیرا
تُو سن لے میری التجا میرے مولا
مجھے بھی دکھا دے تُو جلوہ نبی کا
یہی ہے میری التجا میرے مولا
نہ محتاج کر تو ، جہاں میں کسی کا ،
مجھے مفلسی سے بچا میرے مولا
جنہوں نے کہا ہے دعاؤں کا مجھ سے
تُو کردے سبھی کا بھلا میرے مولا
ہیں کعبے پہ نظریں عبیدِ رضا کی ،
ہو مقبول ہر اِک دعا میرے مولا