بے حد ذلیل و خوار ہوں مولا تو بخش دے
توبہ میری توبہ میری توبہ تو بخش دے
میں آج بے قرار ہوں مولا تو بخش دے
\عصیاں کے زیرِ بار ہوں مولا تو بخش دے
مغموم و دل فگار ہوں مولا تو بخش دے
شرمندہ کردگار ہوں مولا تو بخش دے
میں زال ہوں نزال ہوں مولا تو بخش دے
میں نے بھُلا دیا مجھے مرنا ہے ایک دن
مر کر اندھیری قبر میں جانا ہے ایک دن
اعمال کا حساب بھی دینا ہے ایک دن
ہاں پل صراط سے بھی گزرنا ہے ایک دن
مجرم ہوں نابکار ہوں مولا تو بخش دے
کچھ رکھ سکا لحاظ بھی نہ ممنوعات کا
کیا کیا نہ ارتکاب کیا منکرات کا
حاصل نہ ہو سکا مجھے عرفان ذات کا
افسوس میں غلام رہا خواہشات کا
نادان ہوں گوار ہوں مولا تو بخش دے
اس درجہ بھر گئی میرے دل کی یہ مُردگی
میں لا سکا نہ اپنے عمل میں بھی عمدگی
اور کر سکا نہ کچھ بھی ادا حقِّ بندگی
برباد کر گیا ہوں خدا اپنی زندگی
ظاہر میں دین دار ہوں مولا تو بخش دے
کوئی نہ دیکھ لے یہی دھڑکا مجھے لگا
تو دیکھتا رہا مجھے احساس نہ رہا
میں بدر لحاظ عفو پہ بھُولا رہا سدا
بے شرم بن گیا مجھے آئی نہ کچھ حیاء
میں وہ سیاہ کار ہوں مولا تو بخش دے
اقرار ہے مجھے میرے مولا میں ہوں لعین
مایوس پر نہیں تیری رحمت سے اے رحیم
خالی نہ بھیج در سے تیرے اے میرے کریم
میرے گناہ بھی بخش دے تیری شان ہے عظیم
میں بھی امیدوار ہوں مولا تو بخش دے
کرتوت دیکھتا ہوں تو اُٹھتا ہے دل میں ہول
رحمت پکارتی ہیں کہ مصحف ذرا تو کھول
لَاتَقْنَطُوْا بھی تجھ کو ملے گا خدا کا قول
سارے گناہ دُھلیں گے بس ایک بار عبید بول
یا رب میں شرمسار ہوں مولا تو بخش دے
بخش دے بخش دے مولا تو بخش دے