ملے ہے خاک سے لیکن بدن میلا نہیں ہوتا ,mily hai khak lakin badan mella nhi hota

 ملے ہے خاک سے لیکن بدن میلا نہیں ہوتا

فدایانِ محمد کا کفن میلا نہیں ہوتا


محبت اہل بیت پاك کی جس دِل میں پنہاں ہو

سدا شفاف رہتا ہے وہ من میلا نہیں ہوتا


ثنائے مصطفیٰ لکھو كہ انکی مَدحا کرنے سے

قلم میلا نہیں ہوتا سخن میلا نہیں ہوتا


نبی کے دین کی خاطر جو دیتا ہے عقیدت سے

وہ دولت کم نہیں ہوتی وہ دَھن میلا نہیں ہوتا


ہمارے جرم کی کالک ہے حاضر بن کے فریادی

لباس پاك شاہ گل من میلا نہیں ہوتا


زباں تر جن کی رہتی ہے ثنائے شاہ بطحا سے

عبید قادری انکا دہن میلا نہیں ہوتا

Post a Comment

Previous Post Next Post