جشن ہے میلاد کا , Jashan Hai Milad Ka

 بھینی بھینی ہیں ہوائیں جشن ہے میلاد کا

 مہکی مہکی ہے فضائیں جشن ہے میلاد کا 


سبز پرچم اور برقی قمقموں سے کیوں نہ آج

 گلی محلے جگمگائیں جشن ہے میلاد کا


 آمنہ کے گھر میں آئی آج وہ فصلِ بہار

 منہ چھپاتی ہے خضائیں جشن ہے میلاد کا


 اُن کی بعثت اہل ایماں پر ہے احسانِ خدا 

کیوں نہ مومن جھوم جائے جشن ہے میلاد کا


 دھوم آمد کی مچائے جشن ہے میلاد کا

 مرحبا کی دوں صدائیں جشن ہے میلاد  کا 


ذکر جن کا خود خدائے پاک کرتا ہے بلند

 آؤ ہم گُن گُن کے گائیں جشن ہے میلاد کا 


جو اسے بدعت کہیں بس دور سے اس کو سلام

 ہم نہ ان کے پاس جائیں جشن ہے میلاد کا


 یا خدا جن کو خوشی ہے شاہ کے میلاد کی

 بس وہ مرادیں دل کی پائے جشن ہے میلاد کا


 کوئی خوش ہیں غم میں کوئی اپنا اپنا ہے نصیب 

خوامخواہ کیوں دل جلائے جشن ہے میلاد کا 


کوّا جن کا ہے مقدر شوق سے وہ کوّا کھائیں 

اور سنی حلوہ کھائیں جشن ہے میلاد کا 

اور سنی حلوہ کھِلائیں جشن ہے میلاد کا


 رب نے جب فرما دیا ذَلِکَ فَلْیَفْرَ حُوْا  

کیوں نہ پھر خوشیاں منائیں جشن ہے میلاد کا 


واسطہ مولود کا دیتا ہوں پاکستان سے 

دور ہو مولا بلائیں جشن ہے میلاد کا


 نعت گوئی آپ کی دل کو لُبھاتی ہے 

عبید آپ بس نعتیں سنائیں جشن ہیں میلاد کا

Post a Comment

Previous Post Next Post