اجمیر کا سفر اب مجھ کو عطا ہو خواجہ
چوکھٹ پہ تیری آ کر منگتا کھڑا ہو خواجہ
وہ قبر ہو کہ محشر میزان ہو کہ پل ہو
ہاتھوں میں میرے ہر جا دامن تیرا ہو خواجہ
اور موج الم نے مارا ،للہ دو سہارا
اسم خدا سے تم تو مشکل کشا ہو خواجہ
رنج و الم کے مارے در پہ کھڑے ہیں سارے
ٹوٹے ہوئے دلوں کا تم آسرا ہو خواجہ
مسلم کی آبرو اب لٹتی ہے لاج رکھ لو
پستی میں کیوں گرا ہے رفعت عطا ہو خواجہ
زاد سفر ہو اس کا اک ہار آنسوؤں کا
جس دم عبید تیرے در پہ آ رہا ہو خواجہ