نسیم فیض چلا دیجئے میرے آقاﷺ
گلِ امید کھلا دیجئے میرے آقا ﷺ
ہوں دور آپ ﷺکی دہلیز سے ہوئی مدّت
اب بس اب یہ دوری مٹا دیجئے میرے آقاﷺ
گلِ امید کھلا دیجئے میرے آقا ﷺ
وہ سبز گنبد و مینار و ممبر و محراب
پھر اپنا روضہ بھی دِکھا دیجئے میرے آقا ﷺ
گلِ امید کھِلا دیجئے میرے آقاﷺ
خدارا کیجے طلب اب تو اپنے قدموں میں
نصیب میرا جگا دیجئے میرے آقاﷺ
گلِ امید کھلا دیجئے میرے آقاﷺ
عجیب سوز اُحد کی فضائے پاک میں ہے
وہ بھینی خوشبو سونگھا دیجئے میرے آقاﷺ
گلِ امید کھلا دیجئے میرے آقاﷺ
نصیب پھر سے ہو افطاریاں مدینے میں
وہ لمحے بہرِ خدا دیجئے میرے آقاﷺ
گلِ امید کھلا دیجئے میرے آقاﷺ
بِٹھا کے صُفرے پہ اپنے مجھے بھی دے عزت
پھر اس کے ٹکڑے کھِلا دیجئے میرے آقاﷺ
گلِ امید کھِلا دیجئے میرے آقاﷺ
دہی کھجور وہ زمزم وہ نان کے ٹکڑے
مجھے تو بس یہ غذا دیجئے میرے آقاﷺ
گل امید کھلا دیجئے میرے آقاﷺ
بلا کہ در پر عنایتِ عنایت خاص کے گوہر
عبید پر بھی لوٹا دیجئے میرے آقاﷺ
گل امید کھلا دیجئے میرے آقاﷺ