امت کو اے خدایا تیرا ہی آسرا ہے


 امت کو اے خدایا تیرا ہی آسرا ہے

شیرازہ اس کا بکھرا تیرا ہی آسرا ہے


غیروں نے ظلم توڑا اپنوں نے ہائے چھوڑا

دے دے تو ہی سہاراتیرا ہی آسرا ہے


دل خون رو رہا ہے رنجور ہو رہا ہے

حالات نے ستایا تیرا ہی آسرا ہے


دشمن ملے ہوئے ہیں جنگ پر تلے ہوئے ہیں

چاروں طرف سے گھیرا تیرا ہی آسرا ہے


پھر سے کوئی عمر دے اعدا کی جو خبر لے

ہر ایک نے پکارا تیرا ہی آسرا ہے


بندوں کو اپنے دے دے اسباب زندگی کے

ظلم و ستم نے مارا تیرا ہی آسرا ہے


کرتا ہے التجا اب تیرا عبید یا رب

کر دے کرم خدایا تیرا ہی آسرا ہے

Post a Comment

Previous Post Next Post